۱۴ سال مفقودی اجباری دکتر اکبر مری پس از ربوده شدن توسط نیروهای نظامی حکومت سکولار و فدرالیست پاکستان
در طول 24 سال گذشته دستکم بیش از 66 هزار شهروند مسلمان بلوچ از جمله زنان و کودکان و افراد سالمند توسط رژیم سکولار و دست نشانده پاکستان تحت عناوین واهی ربوده و مفقود شده اند که تاکنون علیرغم پیگیری های خانواده هایشان از وضعیت و سرنوشت بسیاری از آنان اطلاعی در دست نیست .
همچنین لازم به یادآوریست که اجساد بسیاری از این شهروندان در گور های دسته جمعی یافت شده و همچنین بسیاری نیز طی درگیری های ساختگی در زندان ها کشته و اجسادشان در بیابان ها و کوهستان ها رها شده است.
این برگی از کارنامه سکولاریستها در سرزمینهای مسلمین و برگی از جنایات سکولاریستها در برابر قوم مسلمان بلوچ است .
البته بسیار مهم است که بدانید حاکمیت مناطق بلوچ نشین ایالت بلوچستان پاکستان در اختیار بلوچهای سکولار ایت و تمام این جنایات توسط این بلوچهای سکولار و مرتد محلی و یا به دستور آنها صورت می گیرد.
پہــرے داری میں جـاگنے والـی آنکهـیں جہــنم سے محفــوظ
«حصہ دوم» جز «۱» حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو آنکهوں کو جہنم کی آگ نہیں چهوۓ گی، ایک وه آنکھ جو اللہ (تعالی) کے خوف سے روئی ہو، دوسری وه آنکھ جس نے اللہ(تعالی) کے راستے میں پہره دیتے ہوۓ رات گزاری ہو. <ترمذی> حضرت ابوہریره رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ تین آنکهوں کو [جہنم کی] آگ نہیں چهوۓ گی، وه آنکھ جو اللہ (تعالی) کے راستے میں نکلی ہو [یعنی شہید ہو جاۓ]. اور وه آنکھ جس نے اللہ (تعالی) کے راستے میں پہره دیا ہو اور وه آنکھ جو الله (تعالی) کے خوف سے روئی ہو. <المستدرک> حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوه میں تهے، ایک رات ہم ایک بلند جگہ پر رات گزارنے کیلۓ اترے، ہمیں سخت سردی کا سامنا ہوا، یہاں تک کہ میں نے دیکها کہ بعض لوگ زمین پر گڑهے کهود کر اون میں گهس گۓ اور انہوں نے اپنی ڈهالیں گڑهوں کے منہ پر ڈال دیں. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی یہ حالت دیکهی تو ارشاد فرمایا: آج رات ہماری پہرے داری کون کرےگا؟ ایسے شخص کو میں خصوصی دعا سے نوازوںگا…..انصار میں سے ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول: میں پہره دوں گا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اون سے فرمایا: قریب آؤ، وه قریب تشریف لے آۓ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچها: تم کون ہو؟ انہوں نے اپنا نام بتایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بہت سی دعاؤں سے نوازا. حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو سنا، تو میں نے عرض کیا: میں وه دوسرا آدمی ہوں جو پہره دیگا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب آجاؤ، میں قریب حاضر ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچها: تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا: ابو ریحانہ. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجهے پہلے والے انصاری کی بنسبت کچھ کم دعائیں دیں. پهر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہنم کی آگ حرام کردی گئ ہے اس آنکھ پر جو اللہ(تعالی) کے خوف سے روئی ہو اور اس آنکھ پر جو اللہ(تعالی) کے راستے میں [پہره دیتے ہوۓ] جاگی ہو. <مسند احمد و رجالہ ثقات، مصنف ابن ابی شیبہ، نسائی، الطبرانی، مستدرک> بیہقی کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:” اور جہنم کی آگ حرام ہے اوس آنکھ پر جو اللہ(تعالی) کی حرام کرده چیزوں سے جهکی ہو یا وه آنکھ جو اللہ(تعالی) کے راستے میں شہید ہوئی ہو.” <السنن الکبری> حضرت ابو عمران انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین آنکهوں کو جہنم کی آگ کبهی نہیں جلاۓ گی:- ایک وه آنکھ جو اللہ (تعالی) کے خوف سے روئی ہو. دوسری وه آنکھ جو اللہ (تعالی) کی کتاب پڑهتے ہوۓ جاگی ہو. تیسری وه آنکھ جو اللہ (تعالی) کے راستے میں پہره دیتے ہوۓ جاگی ہو. <کتاب الجہاد لابن مبارک رحمہ اللہ> حضرت ابو ہریره رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک رات [لشکراسلام کی] پہرے داری مجهے اون ہزار دنوں سے زیاده مجبوب ہے جن میں روزانہ روزه رکهوں اور ہر رات کو مسجد حرام یا مسجدنبوی میں قیام کروں. <کتاب الجامع> ابن ابی شیبہ رحمة اللہ عليہ نىے سند_ صحیح کے ساتھ حضرت مکحول رحمة اللہ عليہ سے روایت کی ہے کہ جس شخص نے پہره دیتے ہوۓ رات گزاری یہاں تک کہ صبح ہوگئ تو اس کے گناه جهڑ جاتے ہیں. <مصنف ابن ابی شیبہ رحمہ اللہ> <فضائل_جهاد ص ٣٠٠ تا ٣٠١ > «بقایا آئندہ….. اِنْ شَـــاءَالله »
مجــاہـدین کی پہـرے داری کـرنے کے فضـــائل کا بیـــان
«حصہ اول» الله تعالی کا ارشادگرامی ہے ◙»”وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ” اور اپنے ہتهیار ساتھ لے لیں. <النساء: ۱۰۲> الله تعالی کا ارشادگرامی ہے: ◙۲»” وَلَا يَطَئُونَ مَوْطِئًا يَغِيظُ الْكُفَّارَ وَلَا يَنَالُونَ مِنْ عَدُوٍّ نَّيْلًا إِلَّا كُتِبَ لَهُم بِهِ عَمَلٌ صَالِحٌ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِينَ.” وه ایسی جگہ چلتے ہیں جو کافروں کے غصہ کو بهڑکاۓ اور یا کافروں سے کوئی چیز چهین لیتے ہیں ہر بات پر اون کے لۓ عمل صالح لکها جاتا ہے، بے شک الله تعالی نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا………<التوبہ: ۱۲۰> حضرت ابو ہریره رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہلاک ہو دینار و درہم کا بنده،[یعنی مال کا حریص آدمی]اور [ہلاک ہو] منقش چادر کا حریص. اگر اوسے کچھ دیا جاۓ تو راضی رہتا ہے اور اگر کچھ نہ دیا جاۓ تو ناراض ہوتا ہے. وه سر کے بل گرے(یعنی تباه و برباد ہو جاۓ) اور جب اوسے کانٹا چبهے تو نہ نکالا جاۓ. خوشخبری ہے اوس بنده کے لۓ جو الله (تعالی) کے راستے میں اپنے گهوڑے کی لگام پکڑے ہوۓ ہو، اوس کے سر کے بال پراگنده اور پاؤں غبار آلود ہوں، اوسے اگر محافظ دستے میں رکها جاۓ تو وه محافظ دستے میں رہے اور اگر اوسے لشکر کے آخر میں رکها جاۓ تو لشکر کے آخر میں رہے،[یعنی جہاد میں جس جگہ بهی اوس کی تشکیل ہو وه اس ذمہ داری کو خوب نبهاۓ.] اگر وه اجازت مانگے تو اوسے اجازت نہ ملے اور اگر سفارش کرے تو اوس کی سفارش قبول نہ کی جاۓ .[یعنی ظاہری طور پر اسے کوئی اہمیت نہیں دیتا، لیکن الله (تعالی) کے ہاں اوس کا مقام بہت بلند ہے] <بخاری> حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر میں ایک رات الله (تعالی) کے راستے میں خوف کی حالت میں[اسلامی لشکر کی] پہرے داری کروں تو یہ مجهے سو سواریاں صدقہ کرنے سے زیاده محبوب ہے. <کتاب الجہاد لابن مبارک رحمہ اللہ> خوب اچهی طرح جان لیجیۓ کہ جہاد میں مجاہدین اور مسلمانوں کی پہرے داری کرنا اعلی ترین عبادت ہے اور الله تعالی کے قرب کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ رباط کی افضل ترین قسم ہے، چنانچہ مجاہدین کی پہرے داری کرنے والوں کو رباط کے فضائل اور اجر بهی ملتا ہے اور اس کیلۓ مزید فضائل بهی ہیں.[آیۓ! ترتیب سے ان فضائل کو پڑهتے ہیں].
فَضَـــائلِ جِہــــٰاد: سرحدوں پر پہرے داری کے کچھ مزید فضائل
حضرت ابو امامه رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک ہر اًمت کیلئے سیاحت ہے اور میری امت کی سیاحت جہاد ہے اور ہر اًمت کی رہبانیت ہے اور میری اًمت کی رہبانیت دشمنوں کی گردنوں ( یعنی سرحدوں پر پہرہ دینا ہے۔
حضرت عروہ بن رًوَیْم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نَبِىّ کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ لوگ حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا: یا رَسُولَ اللہ ! ہم لوگ نئے مسلمان ہوئے ہیں اور ماضی میں ہم بہت گُناہوں اور زِنا (وغیرہ) میں مُبتَلا رہے ہیں، اب ہم نے ارادہ کیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو گھروں میں بند کر لیں اور مرتے دم تک اللہ (تعالیٰ) کی عبادت کرتے رہیں۔ راوی فرماتے ہیں کہ رَسُولُ اللہ ﷺ کا چہرہ مبارَک چمکنے لگا اور آپ ﷺ نے فرمایا: عنقریب تم لوگ لشکروں میں نکلوگے، کافر تمہارے ذِمِّىْ بن کر تمہیں خَراج دیں گے اور سَمُندر کے ساحل تمہارے شہر اور مَحل ہونگے، پس جو تم میں سے اس زمانے کو پائے اور پھر کسی شہر یا مَحل میں خود کو عبادت کیلئے مرتے دم تک بند کرنا چاہے تو کرلے۔
حضرت یَزِيْد اَلْعُقَيْلِى رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رَسُولُ اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اُمت میں سے کچھ لوگ ایسے ہونگے جن سے سرحدوں کو بھرا جائے گا، [یعنی ان کو پہرے داری کیلئے محاذوں پر بھیجا جائے گا] اور ان سے حقوق لئے جائیں گے، لیکن ان کے حُقوق اُنہیں نہیں دیئے جائیں گے، وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں ۔ وہ لوگ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔
برکینا فاسو میں جنرل ابراھیم ترورے کی فوج میں اختلافات کی چہ مگوئیاں ہیں، پچھلے ہفتے القاعدہ جنگجووں کے بدترین حملے میں 100 سے زائد برکینا فاسو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد ابراھیم ترورے نے حکومت گرنے کے خدشے کی وجہ سے 48 گھنٹے کے لئے قریبی روسی کیمپ میں پناہ لی۔
امریکی فوج کا نائیجر سے انخلاء جاری ہے اور وہاں بھی روسی فوج امریکیوں کی جگہ لے رہی ہے۔ مغربی افواج کے انخلاء کے بعد جس طرح روسی اور مقامی افریقی افواج مقامی آبادیوں کا قتل عام کر رہی ہیں، اس سے ان ممالک کی عوام اور افواج دونوں میں بد دلی پھیل رہی ہے۔
مغربی افریقہ میں روسی فورسز کی آمد کے بعد جنگ حکمت میں مقامی ابادی کا قتل عام شروع ہو چکا ہے اور صورت حال یہی جاری رہی تو چند سال میں ہم ان مغربی افریقہ کے ان ممالک (نائیجر، برکینا فاسو اور مالی) میں عراق و شام والا منظر نامہ دیکھیں گے۔
عمل جراحی بر روی ضایعه تومور صورت کودک چهار ساله در زاهدان با موفقیت انجام شد
متخصص جراحی فک و صورت زیبائی دانشگاه علوم پزشکی زاهدان: این تومور با نام علمی”تومور ملانوتیک نورواکتودرمال” بر روی فک بالای کودک قرار داشت.علیرغم انجام یک مرحله عمل جراحی در یکی از بیمارستان های مطرح خارج از استان، مجدد تومور روی صورت کودک، شروع به رشد و وی را دچار مشکل کرد.
خوشبختانه در عمل جراحی که با کمک تیم حرفه ای بیمارستان، انجام شد تومور بطور کامل خارج و هماینک بیمار با حال عمومی مساعد در بخش بستری است و به زودی با بهبودی کامل ترخیص خواهد شد.
فرمانده انتظامی ایرانشهر در جنوب سیستان و بلوچستان: در پی گزارش ۲ فقره آدم ربایی در ایرانشهر به علت حساسیت موضوع بلافاصله تیم هایی از ماموران پلیس آگاهی آن شهرستان وارد عمل شدند. در بررسی های به عمل آمده مشخص شد، سرنشینان ۲ دستگاه خودرو پژو ۴۰۵ در شهرستان ایرانشهر اقدام به ربایش ۲ شهروند ۲۶ ساله و ۲۴ ساله کرده و از محل متواری شدند. با انجام اقدامات پلیسی گسترده مخفیگاه متهمان در ایرانشهر را شناسایی و ماموران پلیس در ۲ عملیات جداگانه وارد عمل شدند و آدم ربایان که عرصه را بر خود تنگ دیدند گروگانها را رها کرده و از محل متواری شدند.
صادرات بالغ بر ۵ میلیون و ۱۰۰ هزار دلاری تعاونیهای سیستان وبلوچستان
مدیر کل تعاون، کار و رفاه اجتماعی سیستان و بلوچستان: در دو ماه اول ۱۴۰۳، شرکت های تعاونی استانبیش از پنج میلیون و ۱۰۰ هزار دلار به وزن ۲۵ تن و ۱۷ هزار و ۹۷۸ کیلوگرم کالا به کشورهای افغانستان و پاکستان صادر کرده اند که عمدتا محصولات شیمیایی و کشاورزی را شامل شده است.
در حوزه واردات نیز از ابتدا تا پایان اردیبهشت ماه امسال، پنج میلیون و ۲۶ هزار و ۴۷۲ کیلوگرم به ارزش نُه میلیون و ۹۰۰ هزار دلار از افغانستان، پاکستان، امارات و غیره واردات داشته ایم که عمده کالاهای وارداتی در حوزه مواد اولیه، محصولات کشاورزی به مثل برنج و انبه بوده است.
موارد ابتلا به مالاریا و مرگ مادران باردار در سراوان کاهش یافت
رییس دانشگاه علوم پزشکی و خدمات بهداشتی درمانی زاهدان گفت: موارد ابتلا به مالاریا در سراوان با تلاشهای شبانه روزی تیم سلامت سیستان و بلوچستان کاهش یافته است.
دکتر حبیب غزنوی امروز سه شنبه در بازدید از مرکز خدمات جامع سلامت شماره ۲ سراوان اظهار کرد: علاوه بر کاهش موارد مالاریا در سه ماهه اول امسال نسبت به مدت مشابه سال قبل، کاهش قابل توجه مرگ مادران باردار که شاخص مهمی در مراقبت های بهداشتی و خدمات درمانی است از موفقیت برنامه ریزی ها و اقدامات خبر میدهد.